نواز شریف اور مریم نواز نے بےگناہی کا آدھا سفر طے کر لیا

image author
شیئر کریں
  • 2.4K
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    2.4K
    Shares

صرف 6 ماہ میں نواز شریف اور مریم نواز نے بےگناہی کا آدھا سفر طے کر لیا

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے بے گناہ ہونے کاآدھا سفر طے کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی سزا کالعدم قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل خارج کر دی ہےاور تینوں کی ضمانت برقرار رکھی گئی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں ایون فیلڈریفرنس میں سزا معطلی کیخلاف نیب اپیل کی پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ جس دوران راجہ ظفرالحق ،اقبال ظفرجھگڑا،رفیق رجوانہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل اکرم قریشی نے مؤقف اپنایا کہ ضمانت کے کیس میں میرٹ کو نہیں دیکھا جا سکتا لیکن ہائی کورٹ نے میرٹ کو دیکھا، اس کیس میں عدالت ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کے میرٹ پر گئی جو کہ اختیارات سے تجاوز تھا، ہائی کورٹ نے خصوصی حالات کو بنیاد بنایا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔

اساتذہ نے نئے پاکستان کو سبق سکھانے کی ٹھان لی، بڑی بیٹھک میں بڑا فیصلہ ہو گیا


جسٹس گلزار نے کہا کہ لیکن ضروری نہیں کہ یہ حالات واقعی ایسے ہوں۔ چیف جسٹس ثاقن نثار نے ریمارکس دیے کہ ضمانت تو اب ہوگئی ہے بی شک غلط اصولوں پر ہوئی ہو، آپ ہمیں مطمئن کریں کہ ہم کیوں کر سزا معطلی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت منسوخی کے قواعد سے متعلق
بتائیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ نے کہاشواہد کے مطابق سزابھی نہیں بنتی۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر کے درمیان مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت منسوخی پردلائل دیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ فیصلے کوبرقراررکھا، نیب کوکیامشکل ہے، کیانوازشریف کوبری کردیاگیا؟ ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کوکہاں نشانہ بنایا؟۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔

غلیظ زبان کا استعمال؟؟ مزاحیہ مولوی علامہ ناصر مدنی مصیبت میں پھنس گئے

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ نیب کے راستے میں کیا مشکل ہے؟ جبکہ ضمانت کا حکم عبوری ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم تب مداخلت کرسکتے ہیں جب ضمانت غلط بنیادوں پرہو، نوازشریف متواترپیشیاں بھگت رہے ہیں اورجیل میں ہیں۔ اکرم قریشی نے کہا کہ جس بنیادپرضمانت دی گئی وہ ہارڈشپ میں نہیں آتی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں ہائیکورٹ نے تفصیلی وجوہات کاذکرکرکے غلطی کی؟آپ چاہتے ہم بھی وہی غلطی دہرائیں؟

یہ بھی پڑھیں۔۔۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا عوامی تاثر بہتر کرنے کیلئے عجیب و غریب حرکتیں

خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزموں کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے فیصلے میںکہا تھا کہ شواہد کےمطابق سزا بھی نہیں بنتی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملزم آدھے بے گناہ ثابت ہو چکے ہیں۔


شیئر کریں
  • 2.4K
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    2.4K
    Shares